25 اپریل 2023 - 18:03
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ایک عاجزانہ سوال

سورۃ ہود نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا قلب مبارک بھاری غم میں ڈوب گیا اور بعدازاں آپ نے کئی مرتبہ دکھ کی حالت میں فرمایا: "سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا"۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا –

تہران سے شائع ہونے والے اخبار "کیہان" کے مدیر اعلیٰ نے اپنے ایک مضمون بعنوان "رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے ایک عاجزانہ سوال" میں لکھا:

1۔ ہم نے کئی برس پہلے کیہان کی میں ایک نکتے کی طرف اشارہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ سورۃ ہود نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے قلب مبارک بھاری غم میں ڈوب گیا اور بعدازاں آپ نے کئی مرتبہ دکھ کی حالت میں فرمایا: "سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا"؛ کیوں؟

کیا سورۃ ہونے میں محشر کی برپائی اور یوم الحساب کی سختیوں کے حوالے سے جو معلومات بیان ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے آنحضرت کے قلب مبارک پر یہ بھاری غم دکھ وارد ہؤا؟ اس قسم کی آیات کریمہ سورہ ہود سے پہلے اور اس کے بعد بھی اتری تھیں لیکن سورۃ ہود اتنی بھاری تھی؟ جناب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) اس حوالے سے سورہ ہود کی آیت 112 کی طرف اشارہ فرمایا کرتے تھے جہاں ارشاد ربانی ہے: "فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ۔۔۔؛ پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو مأمور کیا گیا ہے اور وه لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کر لی ہے۔۔۔"؛ لیکن سورۃ شوریٰ میں بھی اسی قسم کی آیت اتری ہے، تو سورۃ ہود کیوں اور سورۃ شوریٰ کیوں نہیں؟

ہم اس سوال کا جواب حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید روح اللہ الموسوی الخمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) سے پوچھتے ہیں، جو فرماتے ہیں:

"۔۔۔ جملہ "فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ" قرآن کریم کے دو مقامات پر موجود ہے؛ ایک سورۃ شوریٰ میں اور ایک سورۃ ہود میں؛ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا ہے: "شَيَّبَتْنِي هُودٌ ۔۔۔ سورۃ ہود ۔۔۔ نے مجھے بوڑھا کر دیا"۔ (1) آنحضرت نے سورۃ ہود کا تذکرہ کیوں کیا؟ اس لئے کہ سورۃ ہود میں اس آیت کا ایک ذیل (اور تعلیقہ) ہے، اور وہ یہ ہے کہ ارشاد ہؤا ہے: "فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ" (جیسا کہ آپ کو فرمان دیا گیا ہے، اسی طرح استقامت کیجئے، اور انہیں بھی استقامت کرنا ہوگی جو آپ کے ساتھ [اور آپ کی دعوت پر] خدا کی طرف آئے ہیں)۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) خود استقامت سے خائف نہیں تھے اور جانتے تھے کہ آپ خود استقامت کر رہے ہیں، لیکن آنحضرت کو خوف اس بات کا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم [مسلمین] استقامت سے عاجز آ جائیں"۔  

"شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالوَاقِعَةُ وَالمُرْسَلاَتُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَ إِذَا الشَّ"مْسُ كُوِّرَتْ؛ بوڑھا کر دیا مجھے سورۃ ہود، سورۃ واقعہ، سورۃ المرسلات، سورۃ نباء اور سورۃ تکویر نے"۔ (الترمذی، محمد بن عيسىٰ، سنن الترمذي، ج5، ص255)۔

2۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی فکرمندی بلا وجہ نہیں تھی۔ ان ہی برسوں میں - 1400 سال قبل آنحضرت نماز جمعہ کی امامت فرما رہے تھے، کہ اسی اثناء میں ڈھنڈورچی نے یمن سے آنے والے قافلے کی مدینہ آمد کی خبر دے دی؛ اور بہت سارے نمازیوں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی امامت میں ہونے والی نماز جمعہ کو ترک کردیا اور آنحضرت کو کھڑا چھوڑ دیا اور تجارتی قافلے کی طرف دوڑ پڑے۔ سورہ جمعہ کی گیارہویں اور آخری آیت اسی تناظر میں نازل ہوئی ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے:

"وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ؛ اور جب وہ [آپ کے اصحاب] کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھتے ہیں تو [نماز کی منظم صف سے دوڑ کر] اس کی طرف منتشر ہو جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں؛ کہہ دیجئے کہ جو اللہ کے یہاں ہے، وہ اس کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے؛ اور اللہ بہترین رزق پہنچانے والا ہے"۔

3۔ اب ہم 1400 سال قبل کے زمانے کو اپنے حال پر چھوڑ کر موجودہ دور میں پلٹ آتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ پھر بھی روز جمعہ ہے مورخہ 15 مارچ سنہ 1985ع‍، اور اس بار تہران میں؛ سابق عراقی آمر صدام حسین نے کئی دن قبل اعلان کیا تھا کہ تہران میں نماز جمعہ کے مقام پر بمباری کرے گا! اس نے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی غرض سے یہ دھمکی دی تھی مگر لوگ، خوف و خطر محسوس کرنے کے بجائے پہلے سے کہیں زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ اس دن تہران کے نمازی اپنے بال بچوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) - جو اس وقت اسلامی جمہوریہ کے صدر تھے - دوسرا خطبہ دے رہے ہیں کہ اچانک نمازیوں کے بیچ میں بم کا خوفناک دھماکہ ہوتا ہے اور شہیدوں کا گوشت و خون اطراف میں پھیل جاتا ہے۔ بھگدڑ مگر نہیں مچتی، بلکہ اللہ کی صدائیں گونج اٹھتی ہیں؛ اور نمازیوں کا یہ نعرہ آسمان تک پہنچتا ہے کہ "حسین، حسین شعار ما است، شہادت افتخار ما است" (حسین حسین ہمارا شعار [نعرہ] ہے، شہادت ہمارا افتخار ہے)۔ اسی اثناء میں مرحوم مرتضائی فر، جو نماز جمعہ کے تکبیر گو اور اسٹیج کے منتظم تھے، نے رہبر انقلاب کا ہاتھ کھینچ لیا، مگر امام جمعہ، اسٹیج کو ترک نہیں کرتے، اور نمازیوں میں سے بھی کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلتا، سوا ان لوگوں کے جنہیں شہیدوں اور زخمیوں کی اسپتال منتقلی کا ذمہ سونپا جاتا ہے؛ نماز جمعہ کا آغاز ہوتا ہے اور دعائے قنوت پڑھی جا رہی ہے، کہ اسی اثناء میں عراقی جنگی طیارے بھی پہنچ آتے ہیں، طیاروں سے گرائے جانے والے بموں کے دھماکے اور طیارہ شکن توپوں کی گھن گرج کے باوجود، لگتا ہے کہ گویا کچھ ہؤا ہی نہیں ہے۔۔۔ اسی دن بوقت شب، به آسمان بر می‌خیزد. امام جمعه، با صلابت در جای می‌ایستد و مرحوم مرتضائی‌فر دست ایشان را می‌کشد که از تریبون جدا کند ولی امام جمعه تریبون را ترک نمی‌کند. هیچ‌کس از جای خود تکان نمی‌خورد (جز تعدادی که به انتقال شهدا و مجروحان می‌روند) در قنوت نماز، هواپیماهای عراقی از راه می‌رسند، صدای مهیب بمب‌ها و شلیک ضد‌هوایی‌ها در فضا می‌پیچد. ولی انگار نه انگار که واقعه‌ای در پیش است... همان شب، رہبر انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) اپنے پیغام کے ضمن میں عوام اور نمازیوں کی دلیری اور تہران کے امام جمعہ آیت اللہ خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی شجاعت اور بے خوفی کی تعریف کرتے ہیں۔

4۔ تین روز قبل، روز ہفتہ، (22 اپریل 2023ع‍) - روز عید فطر - تہران کی مصلّیٰ میں، نماز عید الفطر رہبر انقلاب امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی امامت میں انجام پائی تھی۔ لگتا تھا کہ جیسے گھروں میں کوئی بھی باقی نہیں رہا تھا۔ حد نظر تک لوگوں کا ایک گھنا ہجوم تھا جو ہر طرف پھیل گیا تھا، افق سے افق تک جڑا ہؤا، قبلہ رخ، اللہ کے حضور۔ سب آئے تھے، ہر سوچ کے حامل لوگ، نہ صرف مصلیٰ کا وسیع و عریض احاطہ ہی نہیں بلکہ اطراف کی سڑکوں پر بھی نمازیوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا۔ خواتین، بچے، نوجوان، بوڑھے، سب آئے تھے۔ ہزاروں افراد، نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے نماز میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور ہر طرف خدا کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، ایک دل آویز شمیم (خوشبو) جس نے انسان کو وجود کو ملکوت الٰہی سے جوڑ رکھا تھا۔ اور ہاں! یہ ہنوز پورا ماجرا نہیں ہے، بلکہ ملک بھر (ایران) میں عید الفطر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد کروڑوں سے متجاوز ہوتی ہے، اور اسلامی ممالک اور کچھ غیر اسلامی ممالک کا حساب بھی اس سے الگ ہے۔

5- مالک [اشتر] محزون و مغموم ہیں، علی(ع) کو طاقت کے عروج پر، مظلوم دیکھ رہے ہیں۔ رخسار پر لپکنے والے قطرۂ اشک کو پونچھتے ہیں، اور آہستگی سے عمار [یاسر] کی طرف قدم اٹھاتے ہیں۔

کہتے ہیں: اے عمار! "کاش ہم علی(ع) کو اس دور میں لے جانے کی طاقت رکھتے جہاں لوگ آنجناب کی راہ و رسم کو اپنی زندگی میں ہر چیز پر مقدم رکھیں"۔

عمار مالک کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں: "وہ دن آنے والے ہیں جن کی تم آرزو رکھتے ہو۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے اس دور کے لوگوں کا وصف سن لیا ہے کہ وہ باپوں کی صلبوں اور ماؤں کی کوکھوں میں ہیں اور جب وہ دور آن پہنچے گا - جس کی خواہش رکھتے ہو - وہ لبیک کہتے ہوئے آئیں گے، وہ جو "من و ما" (میں اور ہم) سے گذر چکے ہیں۔ نہ انہیں سود و زیاں کی فکر ہے نہ ہی "بود و نبود" (کچھ رکھنے یا نہ رکھنے) کا غم، اور وہ صرف خالص محمدی(ص) اسلام کے چاہنے والے ہیں؛ علی(ع) کو اپنا امام، مولا اور مقتدیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ تسلط پسند نظام کی اندھیری چھت کو توڑ دیتے ہیں اور نئے نظام کی خاکہ کشی کرتے ہیں۔ وہ زمانہ جو آنے والا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے وعدہ دیا ہے کہ وہ رہزن جو علی(ع) کی دنیاوی حیات کے خاتمے کو اسلام کا خاتمہ سمجھتے تھے، خوف و وحشت کا شکار ہو کر علی(ع) کے آخرالزمانی اصحاب و انصار کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہونگے؛ اور کفر کی دنیا میں اپنے تمام ساتھیوں اور اربابوں کو بلائیں گے اور ہر طرف سے حملہ آور ہونگے۔ ایک بار پھر "ناکثین، قاسطین اور مارقین" کی طرف سے جمل، صفین اور نہروان" کی جنگیں دہرائی جائیں گی لیکن اس بار

نہ جمل کی مانند ناکثین جم کر کھڑے ہونے کی استعداد رکھتے ہیں، نہ صفین کی مانند مؤمنین فریب کے نیزے کے ذریعے گھائل ہونگے، نہ ہی نہروانیوں کا فتنہ انہیں پیشقدمی سے روک سکے گا۔ شیطان نعرہ زن ہوگا اور اپنی جنی اور انسی فوج پر لعنت ملامت کرے گا، کہ "تم بیٹھے کیوں ہو؛ تو بھاگتے کیوں ہو، جبکہ اسلام ساڑھے چودہ سو سال بعد، تاریخ کا حصار توڑ کر، ایک بار پھر میدان میں آیا ہے"۔

6۔ امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) فرمایا کرتے تھے: "میں پوری جرأت کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں، ملت ایران اور اس کی کروڑوں کی آبادی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے زمانے کی ملت حجاز اور عہد امیرالمؤمنین اور حسین بن علی (علیہما السلام) کے زمانے کے کوفہ و عراق کے عوام سے بہتر ہیں"۔ نیز فرماتے ہیں: "طاقتوروں کے شور شرابے سے مت گھبراؤ، یہ صدی [پندرہویں صدی ہجری] خدائے قادر کی مشیت سے، مستکبرین پر مستضعفین اور باطل پر حق کی فتح کی صدی ہے"؛ اور آپ ہی نے اپنے ایک پیغام کے ضمن میں فرمایا: "اسلام، یکے بعد دیگرے، دنیا کے اہم قلعوں اور حصاروں کو فتح کرے گا"۔

اور امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے "تاریخ موڑ" کی نشاندہی کی ہے؛ جہاں فرماتے ہیں: "دنیا ایک بہت اہم موڑ سے گذر رہی ہے۔ گویا کہ ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے ۔۔۔ دنیا اور خطے کی سیاسی صورت حال پر ایک نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ <ہم ایک حساس دور میں واقع ہوئے ہیں، صحیح معنوں> "آج" ایک تاریخی موڑ ہے ۔۔۔ عالم اسلام میں فعال اور عمل کرنے والے لوگ بہت ہیں، ہر دھارے اور ہر دھڑے سے، لیکن معلم اور علمبردار اسلامی جمہوریہ ہے"۔

7۔ اور

بہتر آن باشد که سرّ دلبران

گفتہ آید در حدیث دیگران‌

(بہتر ہے کہ دلرباؤں کا راز

دوسروں کے الفاظ میں بیان کیا جائے)

چنانچہ دشمنوں کے بے شمار اعترافات کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرنا بے جان نہ ہوگا؛ پڑھئے:

مورخہ 13 دسمبر 2011ع‍ کو، جرمن خبر ایجنسی ڈوئچے ویلے (Deutsche Welle) نے واشنگٹن میں بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں کے ممالک کی تنظیم "اٹلانٹک اسٹریٹجک کونسل" کے سالانہ اجلاس کے انعقاد کی خبر دی۔ اس اجلاس میں امریکی صدور فورڈ، کارٹر، بش اور اوباما کے ادوار کے امریکی قومی سلامتی کے مشیران زبگنیوف بریژنسکی (Zbigniew Brzezinski)، جنرل جیمز جونز (James L. Jones) اور برینٹ سکوکرافٹ (Brent Scowcroft) نیز سی آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس (David Petraeus)، صہیونی جاسوسی ادارے "موساد" کے اس وقت کے ڈائریکٹر تامیر پرادو (Tamir Pardo) اور برطانوی خفیہ ادارے MI6 کے اس وقت کے ڈائریکٹر جان ساورز (John Sawers) بھی شریک تھے۔ ڈوئچے ویلے نے ٹاپ رزلٹ -‌TOP RESULT- کے عنوان سے - اجلاس کے سیکریٹری - زبگنیوف بریژنسکی کے حوالے سے لکھا تھا:

"سابق سوویت اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد دنیا ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جس کی عکاسی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہونے والی زبردست تبدیلیوں اور امریکہ اور یورپ میں غیر متوقعہ واقعات اور رودادوں سے ہوتی ہے۔ ہم ایک پیچیدہ چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں اور تاریخ اپنی سمت بدل رہی ہے"۔ ڈوئچے ویلے نے مزید لکھا تھا کہ بریژنسکی نے یہ بھی کہا: "ایران پر امریکہ کا حملہ المناک نتائج و اثرات کا باعث بنے گا"۔ اور اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ "اٹلانٹک کونسل سمجھتی ہے کہ مغرب کو درپیش تعطل میں اسلامی ایران کا کردار مؤثر ہے"۔  

مورخہ 26 مئی سنہ 2011ع‍ کو غاصب صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا اور ایران کی تکنیکی اور سائنسی ترقی کی طرف اشارہ کیا اور خطے میں اسلامی انقلابات (اسلامی بیداری کی تحریکوں) سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

"میں نے چھ مہینے قبل، اسی اسٹیج پر کھڑے ہوکر "جوہری ایران" کے خطے سے خبردار کیا تھا۔ آج دوسرا زمانہ ہے۔ آج جزیرہ نمائے عرب میں وادی خیبر سے لے کر مراکش میں آبنائے جبل الطارق تک، وسیع پیمانے پر گہری تبدیلیاں معرض وجود میں آ رہی ہیں اور پورا علاقہ لرز رہا ہے۔ اس زلزلے نے ملکوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور حکومتوں کو ٹوٹ پھوٹ سے دوچار کر دیا ہے، اور ہم سب ان اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہے ہیں۔ تیونس اور قاہرہ میں بے مثل مناظر نے سنہ 1989ع‍ کے - سابق چیکو سلواکیہ (چیک اور سلواکیہ) کے دارالحکومت پراگ اور [آج کے جرمن دارالحکومت] برلن - کے واقعات کی یاددہانی نہیں کرا رہے ہیں، جو کہ امیدمند کر دینے والے واقعات تھے، بلکہ یہ تباہ کن زلزلہ (!) ایران کے سنہ 1979ع‍ کے انقلاب کی یاددہانی کرا رہے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ ایک طاقتور قوت موجود ہے جو عالمی انتظام کے لئے ہمارے طور طریقوں کے خلاف ہے۔ اس طاقتور قوت کی چوٹی پر خمینی اور خامنہ ای کا ایران ہے۔ میں خبردار کرتا ہوں کہ تاریخ کا قبضہ -‌HISTORY HINGE- گھوم رہا ہے۔ جو لوگ ایران اور اس کے خطرے کو نظرانداز کرتے ہیں، وہ اپنے سر ریت میں گھسیڑ چکے ہیں"۔

اور اب باری ہے اس بات کی دل کی گہرائیوں سے رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بارگاہ میں - جو خواجۂ عالم اور ملائکہ اور بنی آدم کی جان جانانِ ہیں اور خدائے مہربان نے آپ کی جان کی قسم اٹھائی ہے - حاضر ہوکر پوچھ لیں کہ:

"یا رسول اللہ(ص)! کیا آپ اپنی امت سے راضی ہیں؟ اور کیا آج بھی سورۃ ہود آپ کو ملول کر رہی ہے؟!"۔

۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: حسین شریعتمداری، مدیر اعلیٰ روزنامۂ کیہان

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔

110